urdu poetry

 دل کی دنیا کا جو دستور نہیں ہے کوئی

جادہء عشق میں مجبور نہیں ہے کوئی


جتنے بھی طلم کمالیں یہ زمانے والے

روزِ محشر سے تو اب دور نہیں ہے کوئی


کتنا مغرور ہے دیکھونا زمیں زاد یہاں

جس کے چہرے پہ ابھی نور نہیں ہے کوئی

کب سے ہے شہرِ فسوں کار میں الجھن ہر سو

اپنے حالات سے مسحور نہیں ہے کوئی

کچھ پسِ ذوقِ تمنا بھی ہے چرچا ہر سو

ایسے ہی شہر میں مہشور نہیں ہے کوئی


غم کی کشتی کو کنارے سے لگایا پھر بھی

میری محنت پہ تو مشکور نہیں ہے کوئی


اس کو بھی حسن ِ محبت کی طلب ہے وشمہ

میرے جیسی بھی یہاں حور نہیں ہے کوئی

Comments