لوگ تو مانگ لیا کرتے ہیں سائے واپس

 لوگ تو مانگ لیا کرتے ہیں سائے واپس

‏ہم  یہ  جنگل کو بتاتے ہوئے  آئے واپس


‏میں مقفل نہیں رکھتی ہوں کبھی دروازے

‏جس نے جانا ہے بہت شوق سے جائے واپس


 ‏یہ زبردستی مجھے چاک پہ لایا گیا تھا

‏کوئی کوزے سے مجھے خاک بنائے واپس


ایسے پنجروں میں پرندے نہیں رہتے تادیر

‏کون اب دل سے گئے شخص کو لائے واپس


‏کچھ ہماری ہی صفوں میں تھے ہمارے دشمن

‏تیر  جو پھینکے  وہی پشت  پہ  کھائے واپس


‏یار یہ  کیا  دکھ  کہ نہیں لوٹا پرانا موسم 

‏میں نے چاہا ہی نہیں تھا کہ وہ آئے واپس

Comments